نئی دہلی،6؍ فروری (ایس او نیوز) زرعی قوانین کی مخالفت میں جاری کسان تحریک کے تحت 6 فروری کے ملک گیر چکہ جام پروگرام میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔ کسانوں کی تحریک سے وابستہ لیڈروں نے اب دہلی، اُتر پردیش اور اتر اکھنڈ کو چھوڑ کر پورے ملک میں چکہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کسان لیڈرو درشن پال سنگھ نے کہا’’ہم آج دہلی میں چکہ جام نہیں کررہے ہیں۔ مگر ہم تمام سرحدوں پر پُرامن طریقہ سے بیھٹے رہیں گے۔ ہم دہلی کے علاوہ پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہیں جام کریں گے۔ چکہ جام دوپہر 12 بجے سے سہ پہر تین بجے تک رہے گا۔‘‘
کسان لیڈر نے مزید کہا ’’ہم سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر پُر امن طریقہ سے بیٹھے رہیں گے اور 3 بجے جب چکہ جام ختم ہوگا تو ایک منٹ کے لئے ایک ساتھ اپنی گاڑیوں کے ہارن بجائیں گے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب ہمیں کافی دقتوں کا سامنا ہے۔
پورا سنیوکت کسان مورچہ یہیں سے چکہ کو کو آرڈینیٹ کرے گا۔ ‘‘ دہلی پولیس کے اطلاعات عامہ کے افسر چنمو ئے بسوال نے کہا ’’ کسان مظاہرین نے آج چکہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 26 ؍جنوری پر ہونے والے تشدد کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس نے سرحدوں پر حفاظت کے پختہ انتظامات کیے ہیں تا کہ کوئی شرپسندراجدھانی دہلی میں داخل نہ ہو سکے۔
کانگریس نے کسان تنظیموں کے چکہ جام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان چکہ جام کے دوران کسانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گے اور حکومت سے زراعت سے متعلق تینوں قوانین واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔